حضرت ابو بکر

حضرت ابو بکر

:حضرت ابو بکر صدیق کا نام و نسب

حضرت ابو بکر صدیق کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا والد نے کعبہ کی حرمت و عظمت کے پیش یہ نام رکھا تھا جب آپ اسلام لے آئے تو آنحضرت ﷺ نے آپ کا نام بدل دیا اور اسلامی نام عبد اللہ تجویز فرمایا کہ اب آپ کعبہ کے بندے کی بجائے رب کعبہ کا بندہ کہلائیں۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ آپ کا نام پہلے بھی عبد اللہ ہی تھا (رياض النضرة ج ا ، ص ۷۷)

آپ عرب کے معروف و مشہور خاندان قریش کے نہایت ممتاز فرد تھے اور نہ صرف پورے خاندان میں آپ کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا بلکہ پورے عرب میں آپ قابل احترام اور معزز شخصیت مانے جاتے تھے حضور اکرم ﷺ سے آپ کا نسب چھٹی پشت میں جاملتا ہے۔

:-حضرت ابو بکر صدیق کے والدین

آپ کے والد محترم حضرت عثمان بن عامر اپنی کنیت ابو قحافہ کے نام سے مشہور ہیں آپ کا نسب نامہ یہ ہے

عبدالله بن عثمان بن عامر بن عمرو بن كعب بن سعد تيم بن مرة بن كعب بن لوی بن غالب بن فهر القرشي التيمي 

(الاصابہ ج۲, ص ۲۴۳)

آپ کی والدہ محترمہ کا نام سلمی بنت صحر ہے جبکہ ان کی کنیت ام الخیر ہے آپ کے والدین شروع شروع اسلام نہ لائے تاہم بعد میں دونوں نے اسلام قبول کر لیا تھا آپ کی والدہ کے لئے حضور نے خصوصی دعا بھی فرمائی تھی آپ کے والد ابو قحافہ نے ایک طویل عمر پائی تھی ان کا انتقال حضرت ابو بکر صدیق کے انتقال کے تقریبا چھ ماہ بعد ہوا تھا۔

:-ایک واقعہ


حضرت ابو بکر صدیق کے والد محترم حضرت ابو قحافہ ( عثمان بن عامر ) فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے آنحضرت ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تشریف لائے اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق کو دیکھا کہ وہ اپنے والد ابو قحافہ کو حضور ﷺ کی خدمت میں لارہے ہیں جب آپ نے انہیں دیکھا اور وہ قریب آئے تو آپ نے حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ تم اس بڑے میاں کو یہاں کیوں لے آئے گھر میں ہی رہنے دیتے میں خود ہی وہاں چلا جاتا « ھلا تركت الشيخ في بيته حتى اكون انا آتيه فيه» حضرت ابو بکر نے کہا کہ یارسول اللہ بہ نسبت اس کے کہ آپ چل کر ان کے پاس جائیں ان کے لئے چل کر آپ کے پاس زیادہ بہتر تھا اور یہ آپ کا حق ہے «احق ان يمشى اليك من ان تمشی الیه له» چنانچہ آپ نے انہیں اپنے سامنے بٹھایا پھر ان کے سینہ اور سر پر ہاتھ پھیرا پھر فرمایا کہ مسلمان ہو جائے آپ کی زبان مبارک سے یہ سنتے ہی انہوں نے کلمۂ اسلام پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔

:-صدیق کی تصدیق


صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی۔ دوسرے دن صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے لوگوں کو بتلایا۔ کچھ لوگ منکر بن کر مرتد ہو گئے جو بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر تصدیق کر چکے تھے۔ وہ بھاگتے بھاگتے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے : آپ کے دوست (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ گمان کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی ہے کیا آپ اپنے دوست کی تصدیق کرتے ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تو یقینا سچ فرمایا ہے ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں؟ کہ وہ رات بیت المقدس گئے اور صبح سے پہلے واپس آگئے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی بالکل ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اس خبر کے بارے میں بھی کرتا ہوں جو اس سے زیادہ بظاہر بعید از عقل ہے ۔ میں تو صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں۔ اسی سے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا لقب ”صدیق “ مشہور ہو گیا۔

اس طرح کے مزید مضامین کے لیے جڑے رہیں۔

Uloomul Islam

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے