فقہ کا تعارف
فقہ کی تعریف:
فقہ کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو کھولنا، واضح کرنا۔ علماء لغت نے لکھا ہے کہ ”فقہ “ کا لفظ دراصل ”فق “ سے بنا ہے ، جس کے معنی ہے اشیاء کی گہرائیوں اور بواطن تک پہنچنے کا راستہ اور شق ، لہذا جب دل کو بصارت حاصل ہوتی ہے تو وہ اشیاء کے حقائق تک راستہ پاتا ہے اور پھر اسے فہم حاصل ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ فقط شرعی احکام کے علم کا نام نہیں ہے، بلکہ شرعی احکام کی گہرائیوں اور باطن کا علم فقہ ہے ، جس میں احکام کی علل، مآخذ اور مقاصد و غیرہ سب شامل ہیں۔ ابتداء میں فقہ کا دائرہ وسیع تھا۔ اس میں عقائد و اخلاق جیسے مباحث بھی موجود تھے ، لیکن بعد میں جب عقائد اور علم کلام میں یونانی فلسفہ کی ابحاث شامل ہو گئیں اور عقائد کے مباحث طویل، مشکل اور پیچیدہ ہو گئے تو عقائد کو الگ فن کی شکل کی دیگر فقہی مباحث سے نکال دیا گیا۔ اسی طرح اخلاق کے مباحث کو بھی الگ فن ( علم تصوف) کی شکل دے دی گئی اور فقہ صرف عملی احکام تک محدود رہ گئی
اصولیین کی اصطلاح:
میں فقہ کا اطلاق ” تفصیلی دلائل سے منتخب کردہ جزئیات کو جان لینے پر ہوتا ہے، جب کہ فقہاء ہر ایسے شخص کو فقیہ کہنا روا سمجھتے ہیں جس کو جزئی مسائل کے احکامات یاد ہوں، اور اہل حقیقت اولیاء اللہ کے نزدیک فقیہ وہ شخص ہے جس کے علم و عمل میں مطابقت پائی جائے ۔ حضرت حسن بصری کا مقولہ مشہور ہے کہ فقیہ وہ ہے جو (1) دنیا سے اعراض کرنے والا (۲) آخرت کی طرف رغبت رکھنے والا (۳) اور اپنے عیوب سے باخبر ہو ۔ (مستفاد در مختار مع الشامی ۱/ ۱۱۸-۱۱۹۔
فقہ کا موضوع
فقہ چونکہ ان عملی احکام کا نام ہیں جن کا تعلق انسان کے افعال کے ساتھ ہے، اس لیے علم فقہ کا موضوع عاقل، بالغ آدمی یعنی مکلف کے افعال ہیں۔ جن کو فرض، واجب، مستحب ، مباح، حرام ، مکروہ وغیرہ جیسے الفاظ کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔
(Sources)فقہ کے ماخذ
ا۔ فقہ کے بنیادی اتفاقی تأخذ چار ہیں
قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس یعنی فقہاء کے اجتہادات
۔ ۲:فقہ کے اختلافی ماخذ میں
پچھلی شریعتیں ، اقوال صحابہ ، استحسان، استصحاب، مصالح ، سد ذرائع اور عرفوغیرہ شامل ہیں، جن کے تفصیلی مباحث اصول فقہ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔
۔۴: شریعت اور فقہ میں فرق
یہاں شریعت اور فقہ کے درمیان اصولی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ شریعت صرف ”وحی“ کا نام ہے جو قرآنی نصوص اور سرور دو عالم ملی ایم کے اقوال وافعال کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ جہاں تک فقہ کی بات ہے تو یہ شریعت کے فہم کا نام ہے۔ فقہاء و مجتہدین نے شرعی نصوص میں غور و فکر کر کے جو اصول و قواعد مقرر کیے اور ان کی روشنی میں جو احکام و مسائل مستنبط کیسے ان کو فقہ کہا جاتا ہے۔ لہذا نہ تو شریعت اور فقہ کو ایک سمجھنا چاہیے اور نہ ہی فقہ کو الگ اور نئی شریعت کہنا درست ہے۔
۔۵: فقہ میں اشتغال افضل ترین عبادت ہے
دینی مسائل کا سیکھنا سکھانا ، اور نت نئے مسائل کے احکامات معلوم کرنا اور امت کی رہنمائی کرنا افضل ترین عبادت ہے ، اس لئے کہ اس عمل کا نفع ساری امت تک متعدی اور رہتی دنیا تک باقی رہنے والا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد عالی ہے: ما عُبِد اللهُ بشيءٍ أفضلَ من فقهٍ في دينٍ ولَفقيهٌ أشدُّ على الشيطانِ من ألفِ عابدٍ ولكلِّ شيءٍ عمادٌ وعمادُ هذا الدينِ الفقهُ” أخرجه الطبراني في ((المعجم الأوسط))
تفقہ فی الدین سے بڑھ کر کسی عمل کے ذریعہ اللہ تعالی کی عبادت نہیں کی جاسکتی ( کیوں کہ مقبول عبادت کے لئے علم صحیح ضروری ہے جس کا ذریعہ تفقہ ہی ہے ) اور ایک فقیہ شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے بڑھ کر ہے، اور ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے اور دین کا ستون تفقہ فی الدین ہے۔
۔۶:مسائل جانے بغیر چارہ نہیں
ایک مسلمان ہر بات سے مستغنی ہو سکتا ہے ، لیکن مسائل شرعیہ کے لازمی علم سے نہ کبھی کوئی مستغنی ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے ؟ اس لئے کہ طہارت کا معاملہ ہو یا نماز کا ، روزہ یا حج کا معاملہ ہو یا زکوۃ کا نکاح طلاق کا مسئلہ ہو یا وراثت کا ، بہر حال مسائل سے واقفیت حاصل کرنی ناگزیر ہوگی ، اس کے بغیر کوئی مسلمان اسلام کے مطابق نہ تو اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے حقوق حاصل کر سکتا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ضروری دینی مسائل سے غافل نہ رہے، اور جب بھی کوئی بات پیش آئے اور اس کے علم میں نہ ہو تو وہ اسے معلوم کرنے کی کوشش کرے۔