جنت کے پتے– Jannat Ke Patte
جنت کے پتے
جنت کے پتے یہ ایک مشہور اردو دل پزیر ناول ہے جسے اگر کوئی ایک مرتبہ پڑھ لے تو وہ اسے مکمل کر کے ہی رہتا ہے. ناول کے مصنف نمرہ احمد ہے. یہ ناول 2012 میں تحریر کی گئی اور مئی 2013 میں اسکی پہلی مرتبہ شائع ہوئی.
کہانی کی بنیادی
کہانی کی بنیادی اصل کردار ایک لڑکی ہے جس کا نام حیا سلیمان ہے۔ جو ایک مہذب اور خدانی لڑکی ہوتی ہے۔ وہ کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتی ہے جہاں اسے مشکلات پیش آتی ہے.
جہان سکندر
اس کے بعد سب سے اہم کردار جہان کا ہے۔ وہ استنبول میں مختلف لوگون سے ملتی ہے اور وہیں اس کی ملاقات جہان سے ہوتی ہے.جہان کا بچپن ہی میں حیا سے نکاح ہو گیا تھا۔ ابتدا میں حیا کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ جہان دراصل اس کا بچپن کا شوہر ہے. دونوں کے درمیان عجیب سا تعلق ہوتا ہے۔
ایک موڑ
جہاں ایک بہادر اور مضبوط سخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ جہاں کا تعلق ایک خفیہ ادارے سے ہوتا ہے جو اپنے ملک کے لیے خدمت انجام دیتا ہے. جس میں عوام کوحب الوطنی کا پیغام دیا جاتا ہے۔اور پھر کہانی ایک موڑ لیتی ہے، حیا اپنی زندگی بدل دیتی ہے اور یہی کہانی کا اصل پیغام ہے.
یہ کہانی کس کے لیے لکھی گئی؟
کتاب کے دیباچے میں کہا گیا ہے کہ یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو بہت سے اچھے کام محض اس لیے نہیں کرتے کہ وہ اچھے دکھائی نہیں دینگے. جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کا چاہتے ہیں لیکن ان میں ہمت نہیں ہوتی. وہ سیدھے راستے پر چلنا چاہتے ہیں لیکن کوئی ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔
کہانی کا خلاصہ
اللہ کے احکام پر عمل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان پر ہنسی نہ کریں۔ اگر کوئی اللہ کے احکام پر عمل کرنے پر آمادہ ہو، چاہے آپ خود ان پر عمل نہ کریں، انہیں الگ نہ کریں۔