وقت کی پابندی پر مضمون
وقت کی فراوانی
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے، میری خواہ ہے ک دن ۴۸ گھنٹوں کا ہو جائے ، کام بہت زیادہ ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لیے دن کے اوقات کافی نہیں ہوتے ، جی ہاں ! ان باتوں میں حقیقت ہو سکتی ہے لیکن یہ باتیں صحیح نہیں ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی نے زمین ، انسان اور زندگی کو پیدا کیا اور ان کے درمیان توازن بھی قائم کیا تا کہ زندگی چلتی رہے اور وہ تعطل کا شکار نہ ہو، مگر یہ کہ خود انسان ہی توازن کو بگاڑنے کا کام کرے تو اس کے برے نتائج سامنے آئیں گے، اگر انسان اللہ کی طرف سے عطا کردہ صحیح راستہ پر قائم رہیں تو تمام امور قانون فطرت کے مطابق انجام پائیں گے، جو زندگی میں توازن قائم رکھتا ہے اور تمام بنی نوع انسانی کے لیے خوشی اور سعادت کا باعث بنتا ہے ۔
لیکن وقت کو منظم کرنے کا طریقہ کار کیا ہے
انسان کے پاس اپنے تمام کاموں کی انجام دہی کے لیے کافی وقت رہتا ہے، لیکن اس وقت کو منظم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ وقت کو منظم نہیں کرتا تو کام انجام نہ پانے کا وہی خود ذمہ دار ہے، نہ کہ وقت کی تنگ دامانی جیسا کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں ۔
لیکن وقت کو منظم کرنے کا طریقہ کار کیا ہے
وقت کو اچھے انداز میں منظم کرنے کے لیے تین چیزوں کا سمجھنا ضروری ہے:
وقت کی قدرو قیمت
وقت کی منصوبہ بندی
اور اس پر توجہ
کاموں کو وہی شخص انجام دیتا ہے جو مشغول رہتا ہے
وقت ہی زندگی ہے
جس طرح زندگی کی قیمت کا اندازہ کرنا اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے اسی طرح وقت کی قدر قیمت کو جاننا بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا پہلا قدم ہے ۔ کاموں میں مشغول شخص جو اپنے وقت کو صیح استعمال کرنے کا حریص رہتا ہے اور اپنی ڈائری میں کام کے اوقات کو تحریر کرتا ہے وہی کہہ سکتا ہے کہ آج فلاں وقت یہ کام ہے، کل فلاں وقت یہ کام ہے، گذشتہ مہینہ فلاں وقت میں نے یہ کام کیا، آئندہ سال اس دن یہ کام کروں گا، یہ اپنے وقت کے صحیح استعمال کرنے کے حریص اور منظم آدمی کے لیے ہی ممکن ہے، کیونکہ وقت کی حیثیت اور اہمیت اس کے نزدیک تجارت ، کمائی اور مال کی طرح ہی ہوتی ہے۔
اس کے پاس وقت منٹوں کے اعتبار سے متعین رہتا ہے، اور اس کا التزام وہ فرض سمجھتا ہے، اگر اس کا التزام نہیں کرتا تو وہ فہم وادراک رکھنے والا مسلمان نہیں ہے
امام حسن البنا اپنی دس وصیتوں میں فرماتے ہیں :
قرآن کی تلاوت کرو یا کسی کتاب کا مطالعہ کرویا کچھ سنو، بہر حال اپنے وقت کا کوئی حصہ بے فائدہ صرف نہ کرو۔
عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا
” دن اور رات تم میں کام کرتے ہیں تم بھی ان میں کام کرو۔
ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وقت کا ضیاع موت سے زیادہ سخت ہے کیونکہ وقت کا ضیاع تم کو اللہ اور اخروی زندگی سے دور کرتا ہے اور موت تم کو دنیا اور دنیا والوں سے دور کرتی ہے۔
آخری بات:
یہ چند سرسری نوٹس ہیں جن کو ہم نے ایک مسلمان کی زندگی میں وقت کی قد رو قیمت سے متعلق پیش کیا ہے
کیا داعی حضرات اس سے متنبہ ہو کر پہلی فرصت میں منصوبہ بندی کریں گئے اور اپنے ہر کام کا حساب رکھیں گے؟
اے اللہ ہم تجھ سے اوقات کی بہتری طلب کرتے ہیں اور اوقات میں برکت مانگتے ہیں.
الوقت أثمن من الذهب