آپ کا میں اُمّتی ہوں _ Aap ka me ummati hun

آپ کا میں اُمّتی ہوں _ Aap ka me ummati hun

اُمّتی اُمّتی، آپ کا ہوں میں

آپ کا میں اُمّتی ہوں، یہ میری قسمت حضور
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت حضور
آپ کا میں اُمّتی ہوں، یہ میری قسمت حضور
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت حضور

میرا دل، دھڑکن، جگر، سانسوں کی منزل آپ ہیں
 درد کی موجوں میں اک راحت کا ساحل آپ ہیں
 جان لٹائی جائے جس پر اُس کے قابل آپ ہیں 
عشق کا مقصود ہیں، مقصد ہیں، حاصل آپ ہیں
 میری سانسوں کی روانی آپ کی خاطر حضور
 بے فدا کُل زندگی آپ کی خاطر حضور

آپ کا میں اُمّتی ہوں، یہ میری قسمت حضور
 میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت حضور

آپ کا ہر قول آقا معتبر میرے لیے
 آپ کے قدموں کا ذرّہ ہے قمر میرے لیے
 آپ کا دیدار معراجِ نظر میرے لیے
 آپ کے نعلینِ اقدس تاجِ سر میرے لیے 
آپ سے منسوب ہر شے سے عقیدت ہے حضور
 سب سے بڑھ کر آپ سے مجھ کو محبت ہے حضور

آپ کا میں اُمّتی ہوں، یہ میری قسمت حضور
 میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت حضور

ہے تمنا خواب میں اُلفت دکھاؤں آپ کو
 کہہ کے یا روحی و نفسی میں بلاؤں آپ کو 
آپ کے حسان سا گرچہ ثنا خواں میں نہیں
 ہے تمنا آپ کی نعتیں سناؤں آپ کو 
عشق میں بن جاؤں ایسا میں بھی دیوانہ حضور
 آپ دیں مجھ کو تسلی مثلِ حنانہ حضور

آپ کا میں اُمّتی ہوں، یہ میری قسمت حضور
 میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت حضور

آپ کی نظروں نے محتاجوں کو سلطان کر دیا
آپ کی پرواز نے عقلوں کو حیران کر دیا
آپ کی نسبت نے کم تر کو بھی ذی شان کر دیا
آپ کے پیغام نے حیوان کو بھی انسان کر دیا
احسن و اجمل و افضل، یا کہ ہم رتبہ حضور
خلق میں کوئی نہیں ہے آپ کے جیسا حضور

آپ کا میں اُمّتی ہوں، یہ میری قسمت حضور
 میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت حضور

آپ ہیں ایسے حسیں کہ یوسف کنعاں فدا
 آپ پر پھر کیوں نہ ہو مجھ جیسے ایک نادان فدا 
آپ پر کُل مال و زر، باپ اور میری ماں فدا 
آپ پر جس جس نے جان دی، اُس پہ میری جان فدا
 قلبِ جعفر کے محل میں آپ بستے ہیں حضور
 بن کے بارشِ عشق ہر دم برستے ہیں حضور

آپ کا میں اُمّتی ہوں، یہ میری قسمت حضور
 میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت حضور

Uloomul Islam

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے