مشکوۃ المصابیح:٢ -Mishkat al-Masabih:2
كتاب الإيمان
الفصل الأول:۱
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فأسند رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ: ” الْإِسْلَامُ: أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ". قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ. قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» . قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ. قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ: «مَا المسؤول عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا. قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» . قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ» ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيل أَتَاكُم يعلمكم دينكُمْ»
. رَوَاهُ مُسلم
Umar bin Khattab said:
One day when we were with God’s messenger, a man with very white clothing and very black hair came up to us. No mark of travel was visible on him, and none of us recognised him. Sitting down beside the Prophet, leaning his knees against his, and placing his hands on his thighs, he said, “Tell me, Muhammad, about Islam.” He replied, “Islam means that you should testify that there is no god but God and that Muhammad is God’s messenger, that you should observe the prayer, pay the zakat, fast during Ramadan, and make the pilgrimage to the House if you have the means to go.” He said, “You have spoken the truth.” We were surprised at his questioning him and then declaring that he spoke the truth. He said, “Now tell me about faith.” He replied, “It means that you should believe in God, His angels, His books, His apostles, and the last day, and that you should believe in the decreeing both of good and evil.” Remarking that he had spoken the truth, he then said, “Now tell me about doing good.” He replied, “It means that you should worship God as though you saw Him, for He sees you though you do not see Him.” He said, “Now tell me about the Hour.” He replied, “The one who is asked about it is no better informed than the one who is asking.” He said, “Then tell me about its signs.” He replied, “That a maid-servant should beget her mistress, and that you should see barefooted, naked, poor men and shepherds exalting themselves in buildings.” [‘Umar] said: He then went away, and after I had waited for a long time [the Prophet] said to me, “Do you know who the questioner was, ‘Umar?” I replied, “God and His messenger know best.” He said, “He was Gabriel who came to you to teach you your religion.”
(Muslim)
Narrator: Umar bin Khattab
ترجمہ:
عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک روز رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اس اثنا میں ایک آدمی ہمارے پاس آیا ، جس کے کپڑے بہت ہی سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے ، اس پر سفر کے آثار نظر آتے تھے نہ ہم میں سے کوئی اسے جانتا تھا ، حتیٰ کہ وہ دو زانو ہو کر نبیﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے ، اور کہا : محمدﷺ! اسلام کے متعلق مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، ہمیں اس سے تعجب ہوا کہ وہ آپ سے پوچھتا ہے اور آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے ، اس نے کہا : ایمان کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ اور تم تقدیر کے اچھا اور برا ہونے پر ایمان لاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، پھر اس نے کہا ، احسان کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔‘‘ اس نے کہا، قیامت کے بارے میں مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسٔول اس کے متعلق سائل سے زیادہ نہیں جانتا ۔‘‘ اس نے کہا ، اس کی نشانیوں کے بارے میں مجھے بتا دیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی اور یہ کہ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، تنگ دست بکریوں کے چرواہوں کو بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اور ان پر فخر کرتے ہوئے دیکھو گے ۔‘‘ عمرؓ نے فرمایا : پھر وہ شخص چلا گیا ، میں کچھ دیر ٹھہرا ۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا :’’ عمر ! کیا تم جانتے ہو سائل کون تھا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جبریل ؑ تھے ، وہ تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے تمہارے پاس تشریف لائے تھے ۔‘
راوی: عمر بن خطابؓ
پہلے کی حدیث