مشکوۃ المصابیح: ۲۲۲۴ – Mishkat al-Masabih: 2224
كتاب الدعوات
الفصل الأول
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْم الْقِيَامَة»
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Hazrat Abu Huraira reported God’s messenger as. saying, “O God, I have entered into a covenant with Thee which Thou wilt not break. I am only a human being, so when I have injured, reviled, cursed or beaten a believer, make that for him a mercy, a purification and a means by which Thou wilt bring him near to Thee on the day of resurrection.”
(Bukhari-Muslim)
Narrator: Hazrat Abu Huraira
ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میں نے تجھ سے ایک عہد لیا ہے بے شک جس کا تو خلاف نہیں کرے گا ، میں بھی ایک انسان ہوں ، میں نے جس کسی مومن کو اذیت پہنچائی ہو ، میں نے اسے برا بھلا کہا ہو ، لعن طعن کی ہو ، اسے مارا ہو تو اس (اذیت) کو اس کے لیے باعثِ رحمت و طہارت اور باعث قربت بنا دے اور روز قیامت اس قربت کی وجہ سے تو اسے اپنا مقرب بنا لے ۔‘‘
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
راوی: حضرت ابوہریرہ ؓ
پہلے کی حدیث