مشکوۃ المصابیح: ١٢ – Mishkat al-Masabih:12

مشکوۃ المصابیح: ١٢ – Mishkat al-Masabih:12

كتاب الإيمان

الفصل الأول: ١٢

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَق الْإِسْلَام وحسابهم على الله. إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ» إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَام "
متفق علیہ

Hazrat Ibn ‘Umar reported God’s messenger as saying, "I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but God and that Muhammad is God’s messenger, observe the prayer and pay the zakat. When they do that they will keep their lives and their property safe from me, except for what is due to Islam; and their reckoning will be at God’s hands.”
(BhukariMuslim)
Narrator: Hazrat Ibn ‘Umar

ترجمہ:
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں ، جب ان کا یہ طرز عمل ہو گا تو انہوں نے حدودِ اسلام کے علاوہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو مجھ سے بچا لیا ، اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ امام مسلم نے ’’حدود اسلام ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔
متفق علیہ
راویحضرت ابن عمرؓ
پہلے کی حدیث

Uloomul Islam

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے