بے خود کیے دیتے ہیں – BeKhud Kiye Dete Hain

بے خود کیے دیتے ہیں – BeKhud Kiye Dete Hain

بے خود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ

بے خود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ
بے خود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ

آ دل میں تجھے رکھ لوں

آ دل میں تجھے رکھ لوں
آ جلوۂ جانانہ

بے خود کیے دیتے ہیں

اتنا تو کرم کرنا اے چشمِ کریمانہ
اتنا تو کرم کرنا اے چشمِ کریمانہ
جب جان لبوں پر ہو
جب جان لبوں پر ہو
تم سامنے آ جانا

بے خود کیے دیتے ہیں

جی چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں میں انہیں آنکھیں
جی چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں میں انہیں آنکھیں
درشن کا تو درشن ہو
درشن کا تو درشن ہو
نذرانے کا نذرانہ
درشن کا تو درشن ہو
نذرانے کا نذرانہ

بے خود کیے دیتے ہیں
اندازِ حجابانہ

آ دل میں تجھے رکھ لوں
آ جلوۂ جانانہ

کیا لطف ہو محشر میں قدموں میں گروں ان کے
کیا لطف ہو محشر میں قدموں میں گروں ان کے
وہ ہنس کر یہ فرمائیں
وہ ہنس کر یہ فرمائیں
یہ دیوانہ ہے دیوانہ

بے خود کیے دیتے ہیں

میں ہوش و حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا
میں ہوش و حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا
جب تُو نے کہا ہنس کے
جب تُو نے کہا ہنس کے
آیا میرا دیوانہ
جب تُو نے کہا ہنس کے
آیا میرا دیوانہ

بے خود کیے دیتے ہیں

اور دنیا میں مجھے تُو نے جب اپنا بنایا ہے
اور دنیا میں مجھے تُو نے جب اپنا بنایا ہے
محشر میں بھی کہہ دینا
محشر میں بھی کہہ دینا
یہ ہے میرا دیوانہ
محشر میں بھی کہہ دینا
یہ ہے میرا دیوانہ

بے خود کیے دیتے ہیں

بے دمؔ میری قسمت میں سجدے ہیں اسی در کے
بے دمؔ میری قسمت میں سجدے ہیں اسی در کے
چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا
چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا
سنگِ درِ جانانہ

بے خود کیے دیتے ہیں
اندازِ حجابانہ

آ دل میں تجھے رکھ لوں
آ جلوۂ جانانہ
آ دل میں تجھے رکھ لوں۔

Maaz Saiyad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے