Hum Ne Ankhon Se Dekha Nahi – ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے

Hum Ne Ankhon Se Dekha Nahi – ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر – اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر 
اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے

 جس نے لا کر کلام الٰہی دیا
 جس نے لا کر کلام الٰہی دیا
 وہ محمد مدینے میں موجود ہے

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر 
اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے

پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صل علی
پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صل علی
جھوم کر کہہ رہی ہے یہ بادِ صبا ! 
ایسی خوشبو چمن کے گلوں میں کہاں
ایسی خوشبو چمن کے گلوں میں کہاں
 جو نبی کے پسینے میں موجود ہے

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر 
اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے

ہم نے مانا کہ جنّت بہت ہے حسیں
ہم نے مانا کہ جنّت بہت ہے حسیں
 چھوڑ کر ہم مدینہ نہ جایں کہیں
یوں تو جنّت میں سب ہے مدینہ نہیں
یوں تو جنّت میں سب ہے مدینہ نہیں
 اور جنت مدینے میں موجود ہے

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر 
اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے

چھوڑنا تیرا طیبہ گوارا نہیں
چھوڑنا تیرا طیبہ گوارا نہیں
ساری دنیا میں ایسا نظارہ نہیں
ایسا منظر زمانے میں دیکھا نہیں
ایسا منظر زمانے میں دیکھا نہیں
جیسا منظر مدینے میں موجود ہے

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر 
اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے

جس نے لا کر کلام الٰہی دیا
 جس نے لا کر کلام الٰہی دیا
 وہ محمد مدینے میں موجود ہے

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر 
اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے

Uloomul Islam

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے