علامہ اقبال پر مضمون

علامہ اقبال پر مضمون

علامہ اقبال برِّ صغیر ہند و پاک کی وہ شخصیت ہیں جن کے تعارف کا کوئی محتاج نہیں۔ شاعری اور فلسفے کے علم کے بے تاج بادشاہ تھے۔ ان کی پیدائش 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ آپ کے اشعار مشعلِ راہ بنتے تھے۔ آپ کے اشعار میں وہ تازگی ہوتی کہ لوگ سنتے ہی خوابِ غفلت سے بیدار ہو جاتے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

ان کی پڑھائی

دنیا میں بہت سے شاعر آئے، مگر کسی کا شاعری کہنے کا انداز اقبال جیسا نہ تھا۔ یہ فی البدیہہ شاعری کہا کرتے تھے۔ شمس العلماء میر حسن سیالکوٹی انہیں ’’ان پڑھ فلسفی‘‘ کہا کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایک مکتب میں حاصل کی، اور بی اے کے لیے لاہور کے ایک گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ علامہ اقبال نے 1899ء میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1905ء میں انہوں نے کیمبرج میں داخلہ لیا۔

ان کی پہلی شادی

ان کی پہلی شادی ان کے پڑھائی کے زمانے میں ایک معزز خاتون سے ہو گئی تھی۔ علامہ اقبال نے کم عمری میں شاعری شروع کر دی تھی۔ 1890ء کے ایک  طرحی مشاعرہ میں اقبال نے ’’موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے،  قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے‘‘ پڑھ کر کم عمر  میں  اس وقت کے جیّد شعراء کو چونکا دیا۔

اقبال کی شاعری

اقبال کی شاعری کو اوّلیت حاصل ہے۔ ان کے اشعار دل اور دماغ دونوں کو چھو جاتے تھے۔ وہ اپنے اشعار میں جو اردو تشبیہات اور اصطلاحات استعمال کرتے تھے، ان کا کوئی جواب نہیں۔
اردو کے تین عظیم شاعروں میں میرؔ کی شاعری اپنے قاری کو ان کا معتقد بناتی ہے، غالبؔ کی شاعری مرعوب و مسحور کرتی ہے اور اقبالؔ کی شاعری قاری کو ان کا گرویدہ اور شیدائی بنا دیتی ہے۔

علامہ اقبال کی وفات

علامہ اقبال کی وفات 21 اپریل 1938ء کو لاہور، پنجاب میں ہوئی۔ علامہ اقبال رخصت ہو گئے، لیکن آج بھی ان کے اشعار لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

Uloomul Islam

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے